کرونا وائرس اور حکومت کی حکمت عملی

Corona virus and government strategy

تحریر طاہر امبر

سچ کہا کسی نے کہ مصیبت بتا کر نہیں آتی۔

میرے ایک سرائیکی شاعری کے استاد محترم ہیں صادق حسین صادق وہ لکھتے ہیں

"جڈاں آندن کال ڈسیندے نئیں سر تاج شہانے کھس گھندن،

کھس گھندن رونق ویڑھے دی ہتھوں گھوٹ دے گانے کھس گھندن،

ول ماضی حال نی یاد راہندے ہر حال زمانے کھس گھندن

پیچھیں صادق سوچاں مر ویندن ہتھوں قلم دے کانے کھس گھندن،"

یہ بھی پڑھیں : اذان کی تعبیر

انسان سارا دن مزدوری کر کے تھکا ہوا گھر واپس آتے ہی بچوں کو گلے لگا کر پیار دیتا ہے اور کھانا کھا کر رات کو میٹھی نیند سوتا ہے اب سونے والے کو نہیں معلوم کہ وہ الصبح اٹھتا بھی ہے یا نہیں یا اسے یہ خبر بھی نہیں ہوتی کہ اٹھوں گا تو کیا دیکھوں گا بس وہ بیچارا یہ سوچ کر سو جاتا ہے کہ کل صبح فلاں کام کروں گا اسی طرح 4 فروری کو رات کو چین سے سوۓ جب 5 فروری 2020 کا سورج طلوع ہوا تو ایک خبر سننے کو ملی کہ کراچی میں کرونا کا ایک کیس سامنے آیا ہے دیکھتے ہی دیکھتے پورا پاکستان کرونا کی لپیٹ میں آ گیا اس سے ملکی معیشت پر بڑا برا اثر پڑا خیر کرونا صرف پاکستان میں نہیں بلکہ کوئی لگ بھگ 190ملکوں میں کرونا کے وار تیز ہوتے چلے گئے حکومت پاکستان کی بہترین حکمت عملی نے پاکستان کی اکانومی کو بری طرح سے متاثر ہونے سے بچا لیا پاکستان کو مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑا جس سے دیھاڑی دار طبقہ انتہائی متاثر ہوا لیکن کچھ کو حکومتی ریلف بھی میسر رہا لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو بلکتے رہے پر کھانے کو کچھ نہ ملا قارئین کوئی بھی ریاست اپنے ایمرجنسی کی صورتحال میں کتنا بجٹ مختص کرتی ہے اسکا اندازہ تو نہیں لیکن رکھنا ضرور چاہیے کہ خدائی آفتوں کا علم نہیں ہوتا،جیسے سیلاب،زلزلہ جیسی ہزاروں مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے تو حکومت عوام کی خیرخواہی کر سکے قارئین سنا اور دیکھا ہے کہ پڑوسی ملک میں کرونا کی تیسری لہر بڑی تیزی سے تباہی مچا رہی ہے کافی جانی نقصان بھی ہوا ہے اسی کے برعکس حکومت پاکستان نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ ہم بھی چکنے ہو جائیں تاکہ کرونا کی تیسری لہر کو قابو پا سکیں قارئین اس آفت میں صرف ایک حکومت کا کام نہیں بلکہ عوام کو حکومتی ایس اوپیز پرعمل کر کے کرونا کو شکست دینی ہوگی قارئین حکومت نے کرونا کی تیسری لہر کو قابو پانے کیلئے فوج کو طلب کر لیا ہے اور سیولین اداروں کو نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں کہ کرونا ایسوپیز پر سختی سے عمل کروایا جاۓ قارئین(سختی سے) ایک بات یاد آئی ہے کہ کسی بستی میں مچھروں نے ڈیرے ڈال دیے بستی والے بہت پریشان تھے کہ اب کیا کیا جاۓ کہ یہ ہمیں رات کو سونے نہیں دیتے ایک دفعہ بستی کے بڑے بزرگ نے فیصلہ کیا کہ ہمیں مچھروں سے جنگ کرنی چاہیے اور اسی بات پر اتفاق ہو گیا اب ڈانڈے سوٹے بندوقیں اٹھا کر اگلے دن مچھروں کے ڈیرے پر جا پہنچے چاروں اطراف سے محاصرہ کر لیا اور حملہ آور ہوئے کافی دیر جنگ جاری رہی تھک ہار کر واپس گھر تشریف لے گئے تو گھر والوں نے پوچھا کیا ہوا؟ بتایا گیا کہ بس ایک ہمارا لقمہ اجل بن گیا اور ایک انکا دوبارا دریافت کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپکا جنگ جو کیسے ابدی نیند سو گیا بتایا گیا کہ انکا ایک مچھر اڑ کر ہمارے بندے پر بیٹھ گیا تو ہم نے اسے فائر مار دیا اس طرح ایک انکا مرا اور ایک ہمارا قارئین بالکل اسی طرح کل کوئٹہ شہر میں کوئٹہ کے مسجد روڈ پر ہارون شاپنگ سینٹر کیساتھ لاک ڈاون شروع ہونے کیساتھ دکانیں بند کرانے کےلئے اسسٹنٹ کمشنر سٹی کوئٹہ زوہب صدیقی کے گارڈز کی فائرنگ سے ایک جوان زخمی ہو گیا ہمیں یاد ہے کہ جب کرونا کی پہلی لہر آئ تھی تو ہمارے وزیراعظم جمہوریہ پاکستان عمران خان نے بہت نرمی سے کام لیا اوراللہ تعالی نے سرخرو کیا جبکہ اب جب کرونا کی تیسری لہر آئی تو وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب کافی سنگ دل نظر آرہے ہیں کیونکہ سختی اس وقت بھی تھی اب تو کام فائرنگ تک پہنچ گیا ہے اور فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے خیر ہم پاکستانی افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ہر مشکل وقت میں منتخب حکومت کا ساتھ دیتی ہے افواج پاکستان ہر موڑ پر جواں مردی سے ڈیوٹی سر انجام دیتی ہے افواج پاکستان کو" سلام"

یہ بھی پڑھیں : خانیوال پولیس کااختیارات سےتجاوز،رشوت نہ دینےکی پاداش میں جھوٹامقدمہ درج کردیا،شہری کا الزام

قارئین اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس چیلنج کو کس طرح عبور کرتی ہے اور عوام کو کیسے تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ہم حکومت وقت کو درخواست کرتے ہیں کہ خدارا اس طرح گولیاں نا چلائی جائیں عوام کو احسن طریقے سے سمجھایا جائے عوام بھی بچاری کیا کرے کہ روزی کے اوقات پر لاک ڈاؤن ہو جاتا ہے کیونکہ بڑے شہروں میں لوگ شام کے وقت شاپنگ وغیرہ کرتے ہیں اب علم نہیں کہ عوام کو کیسے اور کب ریلیف مہیاء کیا جائے گا قارئین حکومت کی حکمت عملی کوئی خاص دیکھائی نہیں دیتی صرف لاک ڈاؤن کے فیصلے کے علاوہ ابھی تک کوئی اور فیصلہ سامنے نہیں آیا حکومت وقت کا فرض ہے کہ وہ عوام کو تمام در پیش مسائل سے نکالنے میں بغیر کسی تاخیر کے کام کرے اور اپوزیشن جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ حکومت کا ساتھ دیں نا کہ کرونا وائرس پر بھی سیاست چمکائیں، عوام سے میری اس ٹوٹے پھوٹے الفاظوں کے ساتھ استدعاء ہے کہ حکومت کا کرونا کو شکست دینے میں ساتھ دیں اور ایس اوپیز پر سختی سے عمل کریں' کیونکہ جان ہے تو جہان ہے کرونا سے ڈرنا نہیں ہے بلکہ بچنا ہے بار بار ہاتھ دھو کر اور ایک دوسرے سے فاصلہ رکھ کر ، جلسے جلوسوں اور ریلیوں میں، شرکت نا کریں شکریہ حکومت عوام کا اور عوام اپنی جان کا خیال رکھیں

یہ بھی پڑھیں : سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ

کرونا وائرس اور حکومت کی حکمت عملی

Post a Comment

Previous Post Next Post
'; (function() { var dsq = document.createElement('script'); dsq.type = 'text/javascript'; dsq.async = true; dsq.src = '//' + disqus_shortname + '.disqus.com/embed.js'; (document.getElementsByTagName('head')[0] || document.getElementsByTagName('body')[0]).appendChild(dsq); })();